fbpx
30 سیکنڈ میں اپنی علامات کوچیک کریں

کیا آپ کو ملٹیپل اِسکلروسِیس ہے؟

30 سیکنڈ میں معلوم کریں کہ آپ ملٹیپل اِسکلروسِیس کے مریض ہیں یا نہیں اور اس کیلئے جو علامات آپ میں پائی جاتی ہیں اُن پر کلک کریں۔

واضح رہے کہ مریض ان علامات سے جزوی یا مکمل طور پر صحت مند ہوسکتا ہےلیکن نئی یا پرانی علامات زیادہ شدید طور پر پھر واضح ہوسکتی ہیں لہذا جو علامات ماضی میں ہوچکی ہیں آپ ان پر بھی کلک کریں۔ علامات کا ختم ہونا اور ایک بار پھر شدّت سے ظاہر ہونا کچھ دن کے بعد بھی ہوسکتا ہے اور اس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

اگر آپ اوپر بیان کردہ کسی بھی علامت کا شکار ہیِں توآپ MS کے مریض ہوسکتے ہیِں لیکن بہتر ہوگا کہ اگر آپ اپنے نیورولوجسٹ سے ملاقات کر کے اپنا مکمل چیک اپ کروالیں۔

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تشخیص صرف ایک کوالیفائیڈ نیورولوجسٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اوپر بیان کئے گئے سوالات صرف ممکنہ مریضوں کو مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ قریب ترین نیورولوجسٹ سے رجوع کرسکیں۔

ملٹیپل اِسکلروسِیس کے بارے میں
جانئیے اورسمجھیئے

ملٹیپل اِسکلروسِیس کیا ہے؟

ملٹیپل اِسکلروسِیس مرکزی اعصابی نظام کی بیماری ہےجس میں دماغ Spinal Cord اور Optic Nerve شامل ہیں۔ اس بیماری کا بڑھنا یا کم ہونا اور علامات ہر مریض کے حوالے سے مختلف ہوتی ہیں۔

ملٹیپل اِسکلروسِیس ایک مہلک اور معذور کردینے والی بیماری ہے جس میں مرکزی مدافعتی نظام اعصابی خلیات کی حفاظتی تہہ (Myelin Sheath) پر حملہ کرتا ہے۔ یہ حفاظتی تہہ ہمارے دماغ Spinal Cord اور Optic Nerve پر ہوتی ہے جوسوزش اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔

یہ نقصان مریض کے معیار زندگی کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے اور ان میں مختلف قسم کی علامات واضح ہوتی ہیں جیسے دھندلا نظر آنا یاعارضی طور پر بصارت کا متاثر ہونا، جسم کے کسی حصّے کا سن ہو جانا یا چھونے پر جھنجھناہٹ محسوس ہونا، پٹھوں کی کمزوری درد یا لڑکھڑاہٹ کا شکار ہونا، چلنے پھرنے میں مشکلات، سوچنے سمجھنے اور توجہ دینے میں مشکلات، پیشاب روکنے کی کوشش میں مشکلات، جنسی ناکارگی اور مسلسل تھکاوٹ۔ یہ تمام علامات ہر مریض میں ضروری نہیں لیکن ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ اگر مناسب علاج نہ کروایا جائے تو بیماری بڑھ سکتی ہے اور مکمل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی بیماری کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن حال ہی میں ہونے والی تحقیقات کی بدولت کچھ ایسے علاج دریافت کرلیئےگئے ہیں جواس بیماری کواچھی خاصی حد تک کم کردیتے ہیں یا بیماری کے بڑھنے کے عمل کوکافی حدتک کم کردیتےہیں۔

یہ بہت اہم ہے کہ ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تشخیص اور اس کا علاج جلد سے جلد شروع ہو جائے کیونکہ جلد علاج بیماری کے بڑھنے کےعمل کوروک دیتا ہے اور مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

نیورولوجسٹ کی معلومات

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی بیماری کن لوگوں میں پائی جاتی ہے؟

ملٹیپل اِسکلروسِیس کم عمر کے لوگوں میں معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے جس کی تا حال کوئی مخصوص وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

یہ اکثر جواں عمری میں حملہ آور ہوتی ہےاور لوگوں کو زندگی کے روزمرّہ کے معاملات میں مشکل پیدا کردیتی ہے اور وہ لوگ اپنی زندگی کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

20
سال
سے
40
سال
ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تشخیص عام طور پر 20 سے 40 سال کی عمر میں ہوتی ہے ۔
لٹیپل اِسکلروسِیس مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں دگنی پائی جاتی ہے۔
ملٹیپل اِسکلروسِیس مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں دگنی پائی جاتی ہے۔
23لاکھ
دنیا میں 23لاکھ لوگ یا ہر 3000 افراد میں سے1 ملٹیپل اِسکلروسِیس کا مریض ہوتا ہے۔

یہ بہت اہم ہے کہ ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تشخیص اور اس کا علاج جلد سے جلد شروع ہو جائے کیونکہ جلد علاج بیماری کے بڑھنے کےعمل کوروک دیتا ہے اور مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

نیورولوجسٹ کی معلومات

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی علامات

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی علامات جسم اور دماغ کے کسی بھی حصّے کومتاثر کرسکتی ہیں۔

90%
ملٹیپل اِسکلروسِیس کے متاثرہ 90 فیصد مریض تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
50%
ملٹیپل اِسکلروسِیس کی بیماری کے حملہ آور ہونے کے 15 سال کے اندر اندر 50 فیصد سے زیادہ مریض چلنے پھرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔
20%
بصارت (آنکھ سے دکھائی دینے) میں مشکلات عام طور پر پائی جاتی ہیں اور یہ 15 سے 20 فیصد لوگوں میں ابتدائی علامات ہوتی ہیں۔
80%
کم سے کم 80 فیصد لوگ مثانے کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔
2x
عام لوگوں کی بہ نسبت ملٹیپل اِسکلروسِیس کے مریض دوگنا Depression کا شکار ہوتے ہیں۔
2x
عام لوگوں کی بہ نسبت ملٹیپل اِسکلروسِیس کے مریض نیند اور بے خوابی کا دوگنا شکار ہوتے ہیں۔

ان علامات کے علاوہ جسم کے کسی حصّے کا سُن ہوجانا، پٹھوں کی کمزوری، جسم میں درد، چلنے پھرنے میں مشکلات، سوچنے یا توجہ دینے میں مشکلات، جنسی ناکارگی اور مسلسل تھکاوٹ ملٹیپل اِسکلروسِیس کے مریضوں میں پائی جانےوالی علامات ہیں لہذایہ ضروری ہے کہ مرض کی تشخیص اورعلاج جلد سے جلد ہو۔ مناسب اور فوری علاج بیماری کے بڑھنے کے عمل کو روک دیتا ہے اور مریض ایک بہتر زند گی گزارسکتا ہے۔

نیورولوجسٹ کی معلومات

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی اقسام

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تین اقسام موجود ہیں۔

RRMS Relapsing-remitting MS

RRMS (وقفے وقفے سے بار بار ہونے والی قسم) ملٹیپل اِسکلروسِیس کی سب سے عام قسم ہے اور 85 فیصد ملٹیپل اِسکلروسِیس کے مریضوں میں یہ قسم تشخیص کی جاتی ہے۔ اس قسم میں علامات آتی اور جاتی ہیں۔ RRMS میں علامات کا وقفہ وقفہ سے ظاہر ہونا Relapse(بیماری یا علامات کا دوبارہ سے ظاہر ہونا) کہلاتا ہے۔ کچھ وقفہ کے بعد مرض میں افاقہ محسوس ہوتا ہےاور بعض اوقات مکمل صحت یابی بھی ہوسکتی ہے(Remission)۔ علامات کچھ وقفہ کے بعد دوبارہ ظاہر ہوسکتی ہیں اور مستقل صورتحال اختیار کر سکتی ہیں۔

SPMS Secondary progressive MS

SPMS کے مریض پر پہلا حملہ وقفے وقفے سے ہونے والی ملٹیپل اِسکلروسِیس کی طرح ہوتا ہے ۔ زیادہ تر مریض جن میں ابتدائی علامات RRMS کی طرح پائی جاتی ہیں وہ آخر میں SPMS کی طرح کی ملٹیپل اِسکلروسِیس میں تبدیل ہوجاتی ہیں یعنی وہ صورتحال جس میں اعصابی نظام میں خرابی بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ صورتحال آہستہ آہستہ معذوری کی طرف لے جاتی ہے۔ SPMS کی شناخت مختلف اوقات میں مختلف علامتوں سے ہوتی ہے اور یہ متحرک یا غیر متحرک صورتحال واضح کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیماری کے اثرات بڑھتے جاتے ہیں۔

PPMS Primary progressive MS

PPMS وہ قسم ہے جس میں شروع سے ہی علامات میں اضافہ ہوتا ہے۔ PPMS کی تشخیص اعصابی نظام میں بڑھتی ہوئی خرابی سے ہوتی ہے۔ (جسمانی یا ذہنی معذوری کی صورتحال) علامات کے واضح ہونے سے لیکر کسی قسم کی Relapse کے بغیر۔ ملٹیپل اِسکلروسِیس کے کم از کم 15 فیصد مریضوں میں PPMS کی تشخیص واضح ہوتی ہے۔ یہ مختلف اوقات میں متحرک یا غیر متحرک علامات ظاہر کرتی ہے اور یہ بڑھتی ہوئی یا ساکت صورتحال بھی ہوسکتی ہے۔

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی مختلف اقسام کیسے ملتی جلتی ہیں

حیاتیاتی پس منظر

حیاتیاتی پس منظر

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی ہر قسم میں جسمانی مدافعتی نظام اپنے ہی مرکزی اعصابی نظام کے خلیات پر حملہ کرتا ہے جسکے نتیجے میں علامات اور معذوری وجہ بنتی ہے۔

بیماری کا کورس

EDSS اسکیل ایک کلینیکل درجہ بندی ہے جو کہ ملٹیپل اِسکلروسِیس میں معذوری کی حدود کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تینوں اقسام میں معذوری بڑھ جاتی ہے۔ اپنے نیورولوجوسٹ سے EDSS اسکیل پر اپنی معذوری کی حد تعین کروائیں۔

بیماری کا کورس

یہ بہت اہم ہے کہ ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تشخیص اور اس کا علاج جلد سے جلد شروع ہو جائے کیونکہ جلد علاج بیماری کے بڑھنے کےعمل کوروک دیتا ہے اور مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

نیورولوجسٹ کی معلومات

علامات

علامات

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تمام اقسام میں ظاہری علامات ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن قسم سے قطع نظر ہر مریض میں کچھ حد تک مختلف ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مریض جو ملٹیپل اِسکلروسِیس کی اقسام RRMS اور PPMS کا شکار ہوتے ہیں، وہ کسی نہ کسی وقت بڑھتی ہوئی جسمانی کمزوری کا سامنا کرتے ہیں۔

بیماری کی سر گرمی

بیماری کی سر گرمی

بیماری کی ظاہری صورتحال خراب ہوتی ہوئی علامات سے واضح ہوتی ہے اور اندرونی طور پر بڑھتے ہوئے زخم (مرکز ی ا عصابی نظام کے وہ حصّے جو Damage ہوچکے ہوں اور سوزش واضح ہو) ایک خاص قسم کی مشین جو MRI کہلاتی ہے، اس کی مدد سے تشخیص کئے جاسکتے ہیں۔

SPMS , RRMS اور PPMS کا کورس

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی اقسام SPMS، RRMS اور PPMS کی بیماری کی ظاہری صورتحال ذیل میں ملٹیپل اِسکلروسِیس کی تینوں اقسام میں بیماری کے بڑھنے کے عمل کی گراف کے ذریعے صورتحال واضح کی گئی ہے۔

Relapsing-remitting MS (RRMS)

Secondary progressive MS (SPMS)

Primary progressive MS (PPMS)

ملٹیپل اِسکلروسِیس کی اقسام کس طور پر مختلف ہیں۔

Best viewed in landscape mode

تشخیص کے وقت ملٹیپل اِسکلروسِیس کی اقسام

Primary progressive MS (PPMS) PPMS کی قسم میں معذوری کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تقریباََ15 فیصد مریض ملٹیپل اِسکلروسِیس کی قسم PPMS کا شکار ہوتے ہیں۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) ملٹیپل اِسکلروسِیس - RRMS بیماری کی سب سے عام قسم ہے۔ تقریباََ 85 فیصد مریضوں میں ابتدائی قسم RRMS ہی پائی جاتی ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

تشخیص کے وقت عمر کی اہمیت

Primary progressive MS (PPMS) ملٹیپل اِسکلروسِیس کی قسم PPMS عام طور پر RRMS کے تقریباََ10 سال بعد تشخیص کی جاتی ہے جب جسمانی معذوری کی صورتحال بتدریج کم ہوتی دکھائی دیتی ہے اور دوسری بیماریوں کے امکانات بھی کم ہوتے جاتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ مریضوں میں بیماری کی تشخیص 40 سے 50 سال کی عمر میں زیادہ ہوتی ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) ملٹیپل اِسکلروسِیس کی قسم RRMS کی تشخیص عموماََ بیس سے تیس سال کی عمر میں ہوتی ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

جسم میں بیماری کا کورس

Primary progressive MS (PPMS) PPMS ایک بڑھتی ہوئی قسم ہے جو بتدریج خراب ہوتی ہوئی علامات سے پہچانی جاتی ہے اوراس میں کسی خاص قسم کی بہتری یا وقفہ واضح نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگوں میں ایسا ہوسکتا ہے۔ PPMS بیماری کی قسم RRMS کی بہ نسبت زیادہ معذوری کی وجہ بن سکتی ہے۔ جبکہ مستقل معذوری کی کیفیت PPMS میں RRMS کی بہ نسبت دو گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔ جسکا واضح مطلب یہ ہوا کہ PPMS قسم میں مبتلا مریضوں کو وہیل چیئراور حرکت کرنے کے لئے زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) RRMS کی قسم نئی اور خراب ہوتی ہوئی علامات سے پہچانی جاتی ہے۔ جس میں بعد میں صورتحال میں بہتری کے دن بھی آتے ہیں۔ یہ بہتری مکمل طور پر بھی آسکتی ہے اور زیادہ عرصہ تک مشکلات بھی رہ سکتی ہیں۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

علامات

Primary progressive MS (PPMS) PPMS قسم میں پائی جانے والی عام علامات میں بڑھتی ہوئی کمزوری، چلنے پھرنے میں مشکلات اور اعضا ٔ کا اکڑ جانا شامل ہیں۔ یہ علامات صرف PPMS میں ہی نہیں پائی جاتیں لیکن یہ زیادہ مستقل ہوسکتی ہیں اور ان کوسنبھالنا مشکل ہوسکتا ہے۔ RRMS کی بہ نسبت PPMS کے مریضوں کو سوچنے اور بولنے میں زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ مریض کے معیار زندگی میں قابل ذکر کمی پیش آسکتی ہےاور اسکے بعد ہاتھوں سےکام کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور ایسا PPMS کے مریضوں میں زیادہ جلدی ہوسکتا ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) RRMS میں عام علامات جو پائی جا سکتی ہیں ان میں تھکن ، اعضا ٔ کا سن ہو جانا، بینائی سے متعلقہ مشکلات، اعضا ٔکا اکڑ جانا اور پیٹ اور مثانہ سے متعلق علامات شامل ہیں۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

بیماری کی سر گرمی

Primary progressive MS (PPMS) PPMS کے مریضوں میں مرکزی اعصابی نظام میں نئے اور واضح زخم کم ہوتے ہیں بہ نسبت RRMS کے اور PPMS کے مریضوں میں ریڑھ کی ہڈی میں زیادہ زخم ہوتے ہیں جسکی وجہ سے چلنے پھرنے میں زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) RRMS کے مریضوں میں اکثر زیادہ واضح اور نئے زخم مرکزی اعصابی نظام میں نوٹ کئے جاسکتے ہیں بہ نسبت PPMS قسم کے مریضوں میں۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

پوری نہ ہونےوالے کلینیکل ضروریات

Primary progressive MS (PPMS) PPMS معذور کردینےوالی بیماری ہے لہذا علاج کلینیکل ضروریات پر منحصر ہوتا ہےاور اسے جلد سے جلد شروع کردینا چاہیے۔ جدید تحقیقات کے نتیجہ میں بہترعلاج وجود میں آئے ہیں جو بیماری کو بہت حد تک کم کردیتے ہیں۔ اگر آپ PPMS قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں تو فوری طور پر اپنے نیورولوجسٹ سے رجوع کریں کیونکہ علاج بیماری کو روک دینے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS) RRMS کی قسم میں مبتلا مریضوں میں بیماری واضح طور پر بڑھتی ہوئی پائی جاتی ہے اور معذوری کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جاتی ہے لہذا تشخیص اور علاج جلد سے جلد شروع کردینا ضروری ہے۔ جدید تحقیقات کے نتیجے میں بہتر علاج وجود میں آئے ہیں جو بیماری کو بہت حد تک کم کردیتے ہیں۔ اگر آپ RRMS قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں تو فوری طور پر اپنے نیورولوجسٹ سے رجوع کریں کیونکہ فوری علاج بیماری کو روک دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
Relapsing-remitting MS (RRMS)
Primary progressive MS (PPMS)

References

  1. Murray TJ. (2006). Diagnosis and treatment of multiple sclerosis. BMJ, 322 (7540):525-527.
  2. Multiple Sclerosis International Federation. (2013). Atlas of MS 2013. Available at: http://www.msif.org/about-us/advocacy/atlas/.
  3. MS International Federation. What is MS? Available at http://www.msif.org/about-ms/what-is-ms/.
  4. Simpson S, et al. (2011) Latitude is significantly associated with the prevalence of multiple sclerosis: a meta-analysis. J Neurol Neurosurg Psychiatry, 82(10):1132-1141.
  5. National Institutes of Health-National Institute of Neurological Disorders and Stroke. (2015). Multiple Sclerosis: Hope Through Research. Available at: https://www.ninds.nih.gov/Disorders/Patient-Caregiver-Education/Hope-Through-Research/Multiple-Sclerosis-Hope-Through-Research.
  6. Hemmett L, et al. (2004) What drives quality of life in multiple sclerosis? QJM, 97(10):671–6.
  7. Souza A, et al. (2010) Multiple sclerosis and mobility-related assistive technology: systematic review of the literature. J Rehabil Res Dev, 47:213–223.
  8. National Multiple Sclerosis Society. (2010). Gait or Walking Problems. Available at: http://www.nationalmssociety.org/NationalMSSociety/media/MSNationalFiles/Brochures/Brochure-Gait-or-Walking-Problems.pdf.
  9. United States Department of Veterans Affairs. Visual Dysfunction in Multiple Sclerosis. Available at: http://www.va.gov/MS/Veterans/symptom_management/Visual_Dysfunction_in_Multiple_Sclerosis.asp.
  10. National Multiple Sclerosis Society. Bladder Problems. Available at: http://www.nationalmssociety.org/Symptoms-Diagnosis/MS-Symptoms/Bladder-Dysfunction/
  11. Siegert RJ, Abernethy DA. (2005). Depression in multiple sclerosis: a review. J Neurol Neurosurg Psychiatry, 76:469–475.
  12. Lobentanz IS, et al. (2004). Factors influencing quality of life in multiple sclerosis patients: Disability, depressive mood, fatigue and sleep quality. Acta Neurologica Scandinavica, 110:6–13.
  13. National Multiple Sclerosis Society. Types of MS. Available at http://www.nationalmssociety.org/What-is-MS/Types-of-MS.
  14. Lublin F.D. et al. (2014). Defining the clinical course of multiple sclerosis. Neurology, 83(3),278-86.
  15. National Multiple Sclerosis Society. Managing Relapses. Available at: http://www.nationalmssociety.org/Treating-MS/Managing-Relapses.
  16. Erbayat A, et al. (2013). Reliability of classifying multiple sclerosis disease activity using magnetic resonance imaging in a multiple sclerosis clinic. JAMA Neurol, 70(3):338-44.
  17. Lublin et al., 2014.